بھینس کا لقطہ
سوال
تقریباً عرصہ سوا سال ہوا ایک بھینس فرار شدہ آئی جسے زید نے اپنی نگرانی میں لے کر اسے اپنے یہاں روک دیا، اور یہ خیال کیا کہ اگر اس کا مالک آجاوے گا تو ہم اس کو واپس کر دیں گے، اور آنے جانے والے لوگوں سے برابر اس کا تذکرہ کرتا رہا، مگر ابھی تک کوئی اس کا مالک نہیں آیا، اور نہ اس کو پتہ چل سکا، تو از روئے شرع اس کے لئے کیا حکم ہے؟ کیا وہ اس کو فروخت کر سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
لقطہ کے اعلان کا جو شرعی طریقہ ہے زید کو لازم ہے کہ اس کو اختیار کرے، ابھی اسے فروخت کرنے کی اجازت نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔