الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لقطہ کا حکم

سوال

زید نے سفر کے دوران ریل گاڑی میں سے ایک کیمرہ کافی قیمتی پایا، اس نے ریلوے حکام کو اس کی اطلاع دی کہ وہ مختلف جگہوں پر اس کی تشہیر کریں، اور جن صاحب کا کیمرہ ہو وہ مجھ سے لے لیں، ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوا مگر اس کا کوئی دعویدار ظاہر نہ ہوا، اب اس کمیرہ کا کیا کیا جائے؟ اور کتنے عرصہ کے بعد اس کیمرہ پر حق مالکانہ ہو سکے گا؟

جواب

یہ لقطہ ہے اس کا حکم یہ ہے کہ خود استعمال نہ کرے حفاظت سے رکھے نقصان نہ ہونے دے مالک کو تلاش کرتا رہے، مناسب ہو تو اخبارات میں اعلان دے، پوری جدوجہد کے بعد جب تلاش کر کے تھک جائے، مثلا سال بھر گذر جائے، اور مالک کا پتہ نہ لگے، اور دل یہ کہے کہ اب مالک بھی تلاش کر کے مایوس ہو گیا، تو اس کو کسی غریب کو بطور صدقہ دیدے اس نیت سے کہ اس کا وبال سر پر نہ رہے، اگر مالک مسلمان ہے تو اس…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو