رفع فساد کے لئے دوسری عید گاہ بنانا
سوال
ایک عید گاہ میں پہلے سے مع الاتفاق عید کی نماز ہوتی رہی بعد کو چند آدمی نے ایک فساد کی بناء پر دوسری عید گاہ بنائی اب شرعاً کونسی عید گاہ میں نماز ہوگی اور عید گاہ ثانی ضرار کے حکم میں تو نہیں داخل ہو گی۔ یا نہیں؟
جواب
فساد اور تفرقہ پیدا کرنے کیلئے دوسری عید گاہ بنانا ناجائز ہے، البتہ اگر فساد کسی وجہ سے پیدا ہو گیا اور اس کا دفعیہ بجز دوسری عید گاہ بنانے کے دشوار ہے تو دوسری عید گاہ بنانا درست ہے، بہر حال جب وہ عیدگاہ بن چکی اور باقاعدہ وقف کر دی گئی تو اس میں اور پہلی عید گاہیں دونوں میں نماز درست ہے۔ عید گاہ قدیم کو حق تقدیم ہے کہ حتی الوسع رفع فساد ضروری ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔