پرانی عید گاہ تنگ ہو تو نئی عید گاہ بنانا
سوال
یہاں کی عید گاہ تنگ ہے اور شکستہ، مشرق اور مغرب دونوں جانب توسیع ممکن نہیں برسات میں اگر عیدین ہوتی ہے تو مزید دشواریوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے کیا بجائے اس جگہ کے دوسری جگہ بنائی جاسکتی ہے؟ اور اس عید گاہ کی اینٹیں نئی عید گاہ میں صرف کی جاسکتی ہیں؟ نئی جگہ جو تجویز کی گئی ہے وہ ایک بہت ہی قدیم قرستان لب سڑک ہے۔
جواب
جگہ تنگی کی وجہ سے دوسری عید گاہ بنانے کی اجازت ہے، جب کہ موجودہ عید گاہ میں توسیع کی گنجائش نہ ہو، لیکن موجودہ عید گاہ میں اگر موقوفہ زمین ہو تو اس کو توڑ کر اس کی اینٹیں نئی عید گاہ میں استعمال کی اجازت نہیں، البتہ اسکی حفاظت کرنا بھی ضروری ہے، خواہ اس کو پنجگانہ نماز کے لئے مسجد بنا دیا جائے اگر اس کی ضرورت نہ ہو اور اس پر کسی غیر کے قبضہ کا اندیشہ ہو تو وہاں دینی مدرسہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔