اندیشہ فساد کے وقت نماز عید محلوں کی مساجد میں
سوال
شہر مراد آباد میں ۱۳ اگست ۱۹۸۰ء کو نماز عید الفطر کے موقعہ پر عین عید گاہ میں مقامی پولیس اور پی ایس ای کے بے محل بلا وجہ بلا ضرورت خلاف قانون خلاف انسانیت (مقامی انتظامیہ کی موجودگی میں) گولی چلانے سے بوڑھوں، جوانوں اور بچوں کی بے گنتی اتلاف جان کا جو خونخوار جان کاہ حادثہ گذرا ہے، اس سے پورے ملک کے مسلمانوں کے انصاف پسند اور قدرداں انسانیت غیر مسلم افراد بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، اکثر سچائی پسند اور حق گو افراد نے اس جارحانہ انسانیت سوز درندانہ خوں ریزی (جو انتظام کے نام سے کی گئی)
جواب
ان حالات میں محلوں کی مساجد میں نماز عید ادا کر لی جائے، یہی انسب ہے اسی میں فتنوں سے تحفظ ہے، اللہ پاک حفاظت فرمائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔