جدید عید گاہ میں نماز پڑھے یا قدیم میں
سوال
آج تقریباً ۳۵ سال سے اوپر گذر رہے ہیں، کہ ایک جگہ سرکاری زمین میں ارد گرد کے تمام محلہ والوں اور بستی والوں نے مل کر ایک عید گاہ قائم کی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ منبر بنا کر اپنی حد تک عید کی نماز ادا کرتے چلے آ رہے ہیں، اسکے ساتھ ہی ایک گورمنٹ ایل پی اسکول بھی قائم کیا گیا اب مذکورہ سرکاری زمین کے جتنے منافعات آتے ہیں سب کے سب اسکول ہی کے اخراجات میں صرف کئے جاتے ہیں اور اس سرکاری زمین کے متولی میں چند لا ولد قسم کے اشخاص تھے اب ان میں اکثر افراد انتقال کر چکے ہیں،صرف دو ایک افراد ایسے موجود ہیں جن کو اس سرکاری زمین…
جواب
جو زمین عید گاہ کیلئے وقف کر دی گئی اور مالک نے بخوشی دیدی ہے اس میں نماز درست ہے، اور دوسرے کی زمین میں بلا اجازت مالک نماز پڑھنا مکروہ ہے لیکن اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو بہتر یہ ہے کہ دونوں فریق متفق ہو کر ایک جید اہل علم و دانش کو حکم مقرر کر لیں انکے فیصلے پر سب عمل کریں نزاع سے دور رہنا لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔