الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اگر جدید عید گاہ بھی بنائی جائے تو نماز کس میں ادا کریں؟

سوال

واقعہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں چھوٹے چھوٹے اٹھارہ عید گاہ کے لوگ مل کر ۱۹۴۸ء میں ایک عید گاہ بنایا۔ فخر الدین صاحب کی آدھ بیگھ زمین پر، جدید بڑی عید گاہ بنادی جو قدیم چھوٹی عید گاہیں تھیں وہ بالکل معطل ہو گئیں اکثریت مسلمانوں کی جدید عید گاہ میں جاتی ہے، کچھ لوگ قدیم عید گاہ میں پڑھتے ہیں، آپس میں اختلاف بہت شدید ہے، اب ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ اگر سب لوگ قدیم عید گاہوں کو چھوڑ دیں تو پھر ان عید گاہوں کا کیا جائے؟

جواب

قدیم عید گاہ بھی وقف ہے مگر چھوٹی ہے جدید عید گاہ بھی وقف ہے اور بڑی ہے جس میں سب نمازی آسکتے ہیں، اگر سب متفق ہو کر قدیم عید گاہ کو پنجگانہ نماز کیلئے تجویز کر کے آباد کر لیں اور عید کی نماز جدید عید گاہ میں پڑھا کریں تو یہ صورت بہتر ہے اگر یہ نہ ہو سکے تو پھر ایسا کر لیں کہ جدید بڑی عید گاہ میں عید کی نماز پڑھا کریں اور جو لوگ معذور ہوں وہ قدیم عیدگاہ میں پڑھا کریں، اسطرح…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو