ہر محلہ میں الگ الگ عید کی نماز
سوال
تین تین چار چار محلے کے مسلمانوں نے مل کر ایک ایک عید گاہ تعمیر کی جس میں سالہا سال تک عید کی نماز ہوتی چلی آرہی تھی اور ایک عید گاہ کی زمین کی ملکیت خاص ایک محلہ کے باشندہ کی تھی جو اس عید گاہ کی خاص خدمت بجالاتے اور انتظام کرتے تھے، امام بھی انھوں نے مقرر کئے۔ دوسرے محلوں کے آدمیوں کی بھی شرکت تھی۔
جواب
تفریق ابتداء ہی میں کر دی گئی کہ ہر محلہ والوں نے ایک جگہ متفق ہو کر عید کی نماز پڑھنا پسند نہ کرتے ہوئے جدا گانہ عید گاہیں بنالیں اور ہر عید گاہ میں مستقل نماز ہونے لگی پھر اس پر مزید تفریق یہ ہوگئی کہ ہر عید گاہ کے آدمی کٹ کٹ کر بڑے میدان میں چلے گئے، نماز ہر ہر عید گاہ میں بھی ادا ہو جائے گی اور میدان میں بھی ادا ہو جائے گی نماز عید کیلئے وقف عید گاہ ہونا ضروری نہیں آپسی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔