قدیم عید گاہ پر غیروں کا قبضہ ہو جانے کے اندیشہ سے نماز عید ادا کرنا
سوال
موضع دھلا پڑھ جس کی مردم شماری تقریباً ۷۷۳ ہے اور دو مسجدیں پختہ ہیں اور ایک عید گاہ بھی قدیم زمانہ سے بنی ہوئی ہے جس میں موضع دھلا پڑھ والے و دیگر آس پاس کے گاؤں کے آدمی نماز عیدین ادا کرتے ہیں مگر تقریباً عرصہ ایک سال کا ہوا ایک مولانا صاحب نے فرمایا کہ یہاں نماز عیدین نہ پڑھو، اب لوگ نماز عیدین پڑھنے سے رک گئے مگر چونکہ موضع دھلا پڑھ کے آس پاس اہل ہنود کا قبضہ ہو گیا ہے اندیشہ ہے کہ کہیں عید گاہ پر قابض نہ ہو جا ئیں چوں کہ مسلمانوں کی حالت ابتر ہے اور موجودہ صورت میں عید گاہ قدیم میں چوں کہ نماز عیدین نہیں پڑھی…
جواب
اتنے چھوٹے گاؤں میں حنفیہ کے نزدیک عیدین کی نماز جائز نہیں اور جو مصلحت سوال میں بیان کی گئی ہے اس مصلحت سے بھی شرعاً وہاں عیدین کی نماز درست نہیں ہو سکتی ہے عید گاہ کی حفاظت کیلئے سب کو مل کر کوئی اور تدبیر کرنی چاہئے اور عیدین کی نماز جب گاؤں والوں پر واجب نہیں تو پھر نہ پڑھنے سے کوئی گناہ نہ ہو گا اسمیں افسوس کی کیا بات ہے اگر فضیلت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کسی دوسری جگہ جہاں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔