الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

متعدد عید گا ہیں ایک بستی میں

سوال

ہمارے شہر میں پہلے سے دو عید گاہیں ہیں، دونوں عید گاہوں کے درمیان کا فاصلہ صرف دو فرلانگ ہے، اور اب ان دونوں عید گاہوں سے تقریباً ایک ڈیڑھ میل کے فاصلہ پر (درمیان میں ایک دریا بھی ہے اور دریا کے اوپر ایک پل ہے) ایک تیسری عیدگاہ گذشتہ عید الفطر سے جاری ہوئی ہے، دو سال ہوئے بندہ کو سب ڈویزن کا قاضی منتخب کیا گیا ہے یہ سرکار کی طرف سے ہوتا ہے بندہ قاضی ہونے کے بعد ان متنازع دونوں عید گاہوں میں سے کسی میں نہیں گیا، یہاں اکثر مساجد میں عید کی نماز ہوتی ہے ان امور میں شرعاً جو حکم ہو وہ مطلوب ہے۔

جواب

جن کو نماز عید کے لئے بنایا گیا ہے اور وقف کر دیا گیا ہے اور دونوں جگہ نماز عید ادا کی جاتی ہے، تو دونوں ہی شرعی عید گا ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو