ایک سے زائد جگہ عید کی نماز
سوال
کسی میدان میں ایک عیدگاہ ہے وہاں ۱۰۰۰ یا ۲۰۰۰ لوگوں کا مجمع ہوتا ہے کوئی مفسد آدمی دنیاوی تنازع کے واسطے چند آدمیوں کو لے کر اس جماعت سے علیحدہ ہوکر دوسری جگہ عید گاہ بنائے آیا یہ عید گاہ بنانا جو باعث فتنہ و فساد ہوگی اور تفریق جماعت مسلمین پر مشتمل ہوگی اسکا کیا حکم ہے؟ وہ آیت کریمہ ”وَلَا تَفَرَّقُوا وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُم وحديث وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةِ فَإِنَّهَا هِيَ الْحَالِقَة“ کی وعید میں داخل ہوگی یا نہیں۔
جواب
نماز عید بہتر یہ ہے کہ ایک جگہ پڑھی جائے لیکن عوارض کی وجہ سے مثلاً جگہ تنگ ہو یا امامت پر جھگڑا ہوتا ہو وغیرہ وغیرہ تو ایک سے زائد جگہ پڑھنے میں بھی کچھ حرج نہیں، بلکہ اگر ایک جگہ فتنہ وفساد کا خوف ہو تو بہتر یہ ہے کہ الگ الگ پڑھی جائے تا ہم تقلیل افضل واحب ہے، تودى بمصر واحد بمواضع كثيرة اتفاقاً در مختار ص ۱۱۶ ج ۱ ر اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا گناہ ہے اس سے اجتناب اور توبہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔