کیا عید گاہ کے لئے وقف ہونا لازم ہے
سوال
عید گاہوں کیلئے وقف ہونا شرط ہے؟ یا اجازت مالک ہی کافی ہے؟ بہر حال سالہا سال سے عیدین کی نماز ہوتی چلی آئی ہے، جو اسی کام کے لئے تعمیر کی گئی ہے۔ اس کے لئے وقف یا اذن عام کا تحریری ثبوت اور دلیل ضروری ہے یا نہیں؟ (۲) خَرَج رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلّم في يوم الفطر وصلى ركعتين بغير الاذان والاقامة کی بناء پر مائک کے ذریعہ اعلان کرنا برائے نماز عید جائز ہے یا نہیں؟
جواب
(۱) نماز عید کے لئے وقف ہونا اور لوگوں کا وہاں نماز ادا کرنا بس اتنا ہی کافی ہے تحریری ثبوت لازم نہیں۔ (۲) نماز عید کیلئے اذان واقامت نہیں کی۔ لیکن نمازیوں کے علم کیلئے اگر رمضان میں خبر دی جائے کہ فلاں جگہ فلاں وقت نماز عید ہو گی اور اقامت میں کچھ وقفہ بھی رہے تا کہ جس کو ایک جگہ نماز نہ ملی ہو تو وہ دوسری جگہ چلا جائے تو مضائقہ نہیں بلکہ اچھا ہے ویسے اذان ہے نہ اقامت ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔