نماز عید جبانہ میں
سوال
مالیگاؤں ایک قصبہ ہے۔ غدر ۵۷ء سے پہلے بہت کم مسلمان آباد تھے مگر غدر کے بعد شمالی ہند سے آکر کثرت سے آباد ہوئے اب یہاں کی مسلم آبادی چوبیس ہزار ہے، نماز عیدین کیلئے ایک پرانی اور نہایت چھوٹی سی عید گاہ بنی ہوئی ہے جسمیں زائد سے زائد ایک ہزار آدمی آ سکتے ہیں اور عید گاہ اس وقت اس زمانہ کے مسلمانوں کیلئے یقیناً کافی ہوگی لیکن اب وہ عید گاہ کسی طرح کافی نہیں ہو سکتی، علاوہ ازیں اصل بات جو سوال کی محرک بنی وہ یہ کہ وہ عید گاہ اس وقت یقیناً صحراء میں تھی لیکن اب آبادی بڑھتے بڑھتے وہ عید گاہ صحراء میں نہیں رہی بلکہ…
جواب
عید کی نماز صحراء میں جا کر پڑھنا سنت ہے جب کہ وہاں کوئی شرعی منکر نہ ہو اور مساجد میں پڑھنا بھی مکروہ نہیں، البتہ سنت کا ثواب حاصل نہ ہوگا۔ صحراء میں عیدگاہ کا ہونا ضروری نہیں بلکہ عید گاہ کے بغیر بھی صحراء میں پڑھنے سے سنت کا ثواب حاصل ہو جائیگا بہتر یہ ہے کہ تمام آدمی جنگل میں جا کر عیدین ادا کریں اور جو معذورین ہوں وہ سابق عید گاہ میں (جو آبادی میں ہے)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔