الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مجوسی کے وقف کردہ میدان میں نماز عید

سوال

نوساری ایک قصبہ ہے جس میں متعدد مساجد ہیں، جامع مسجد بھی ہے یہاں پر عید گاہ نہیں ہے، پہلے جامع مسجد میں نماز عید ادا کی جاتی تھی، اب چند لوگوں نے عید گاہ میں نماز کی فضیلت سن کر عید گاہ کی کوشش کی، شہر میں جگہ ملنا دشوار ہے، ایک میدان ہے جو کسی مجوسی نے کھیل کود کیلئے وقف کر دیا ہے جو میونسپل کے قبضہ میں ہے، اس میدان میں مولانا منظور صاحب نعمانی کا وعظ بھی ہوتا ہے، تو اگر میونسپل سے اجازت ہے کہ وہاں پر عیدین کی جماعت کر لی جائے تو یہ کیسا ہے؟

جواب

مندوب ومستحب یہ ہے کہ نماز عید آبادی سے باہر میدان میں ادا کی جائے، اس میدان میں ادا کرنے کی اجازت ہے، اگر چہ مجوسی نے کھیل کود کیلئے وقف کیا ہے، تو اسمیں ادا کرنا احسن ہے، نماز عید کیلئے مسجد کے مقابلہ میں میدان کو ترجیح ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو