الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبرستان میں نماز عید

سوال

یہاں ایک وقف کردہ قبرستان ہے، قبرستان کے چاروں طرف چہار دیواری ہے۔ شہر کی بیشتر میت اسی قبرستان میں دفن کئے جاتے ہیں، قبرستان کے اندر کچھ زمین ابھی خالی ہے، اس خالی زمین کے پیچھے جو زمین ہے اسی میں میت دفن کئے جاتے ہیں، جب ضرورت ہوگی سامنے کی اس خالی زمین میں بھی میت دفن کی جائے گی، فی الحال شہر کو عیدین کی نماز ادا کرنے کیلئے ایک عید گاہ کی ضرورت ہے، کچھ لوگوں کا ارادہ ہے کہ قبرستان کے باہر ایک غیر مذہب آدمی کی زمین قبرستان کے متصل ہے اسے خرید کر عید گاہ بنایا جائے، اکثر لوگ اسی کو پسند کر رہے ہیں، لیکن دو چار…

جواب

جب کہ اس قبرستان میں مردے دفن ہوتے ہیں اور وہاں قبریں نئی پرانی ہر قسم کی موجود ہیں تو وہاں نماز عید ادا نہ کی جائے بلکہ اسکے قریب جو جگہ موجود ہے اور اسکو خرید کر عید گاہ بنانے کی تجویز ہے تو اسی کو خرید کر عید گاہ بنالیں، اس میں خلفشار وانتشار نہ کریں، واقف جس نیک مقصد کیلئے جو جگہ وقف کرے اس مقصد کو ختم نہ کیا جائے اور دوسرے مقصد کیلئے وہ جگہ متعین نہ کی جائے حتی الوسع شرعا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو