دو بستیوں میں ایک عید گاہ
سوال
دو گاؤں جو بالکل قریب قریب ہیں اور دونوں میں کچھ فاصلہ بھی نہیں ہے دونوں کے مابین ایک عیدگاہ ہے اور جمعہ دونوں میں ہوتا ہے لیکن نماز عید ایک ہی جگہ پڑھی جاتی ہے امسال عید الفطر کے موقع پر ایک شخص تقریر کر رہا تھا تو عیدگاہ والوں نے اس شخص کو تقریر کرنے سے منع کیا نماز عید ایک فاسق شخص نے پڑھائی اور دوسرے آدمی ڈاڑھی منڈے نے خطبہ پڑھا اور عید گاہ میں اتنی گنجائش نہیں کہ تمام آدمیوں کو محیط ہو سکے بہت چھوٹی ہے اسکے برطرف قبرستان ہیں جو لوگ عید گاہ میں نہیں آسکے وہ نیچے کھڑے ہو کر قبرستان میں نماز پڑھتے ہیں تو اب غرض…
جواب
جس بستی میں نماز جمعہ کے شرائط موجود ہوں اس میں اولی اور افضل یہ ہے کہ جمعہ اور عید ایک ہی جگہ ہو لیکن تنگی یا دیگر عوارض کی وجہ سے اگر دوسری جگہ بھی ہو جائے تب بھی مضائقہ نہیں، پس اگر وہ دونوں گاؤں اپنی آبادی و دیگر ضروریات بازار وغیرہ کے لحاظ سے علیحدہ علیحدہ قصبہ کے مانند ہیں مثلاً ہر ایک کی مردم شماری تین چار ہزار ہے اور ہر ایک میں گلی کوچہ بازار ہے اور روزمرہ کی ضروری…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔