مساجد میں عید کی نماز
سوال
(ألف) شہر میں پہلے سے دو عید گاہیں ہیں، دونوں عید گاہوں کے درمیان کا فاصلہ دو فرلانگ ہے، ایک تیسری عید گاہ بھی ہے، پہلی دو عید گاہوں اور اس کے درمیان ایک دریا بھی ہے، یہ تیسری عید گاہ گذشتہ عیدالفطر سے جاری ہوئی ہے ایسی صورت میں مساجد میں نماز پڑھنا شرعاً ممنوع ہے یا نہیں؟ (ب) قاضی ہونے کی حالت میں مختلف عیدوں میں مختلف عید گاہوں میں نماز پڑھنا چاہئے، یا سب مسلمانوں کو ایک عید گاہ کے بنانے تک مسجد میں نماز پڑھنا بہتر ہے؟
جواب
(الف) مندوب و مستحب یہ ہے کہ عید کی نماز عید گاہ میں ادا کی جائے پنجگانہ کی مسجد میں ادا کرنے سے بھی ادا ہوجاتی ہے لیکن اظہار شوکت اسلام میں کمی ہوتی ہے، کیونکہ جمع متفرق اور منتشر رہتا ہے۔ (ب) جب تک جامع عیدگاہ بنے اس وقت تک دونوں عید گاہوں میں پڑھا کریں سب مساجد میں جاری نہ کریں گے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔