نماز عید کے لئے میدان میں جانا مستحب ہے
سوال
عید الاضحیٰ کی نماز شہر کی مساجد میں ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ یہ مسئلہ بہشتی زیور میں لکھا ہوا ہے مگر قابل دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اتنی بڑی تعداد میں سنت کا ترک مداومت کا باعث نہیں۔ واضح ہو ہمارے یہاں شہر میں نوے فیصد مساجد میں عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھ لی جاتی ہے اور شہر کی مساجد میں نماز پڑھ لینے کی مصلحت یہ بتاتے ہیں کہ جلد از جلد قربانی کے کام سے فرصت مل جاتی ہے ایک امام مسجد اصرار کرتے ہیں کہ شہر میں نماز ادا کر لینا بہتر نہیں خلاف سنت ہے اس لئے عید گاہ میں نماز ہونی چاہئے۔ ان کا یہ کہنا صحیح ہے یا نہیں؟
جواب
عید گاہ میں جا کر نماز عید ادا کرنا مندوب ہے اگر چہ جامع مسجد میں وسعت ہو، فان خصوص التوجه إلى المصلى مندوب وان وسعه المسجد عند عامة المشائخ وهو الصحيح اه (طحطاوی ص ۲۹۰) اگر عید گاہ میں لوگ جا کر نماز ادا کر لیں اور کچھ لوگ شہر کی جامع مسجد میں پڑھ لیں تب بھی مستحق ملامت نہیں، سب لوگ اگر مسجد ہی میں پڑھیں تو خلاف مندوب ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔