الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عید گاہ چھوڑ کر میدان میں نماز عید

سوال

عید گاہ یا مسجد میں نماز ہوتی چلی آرہی ہے، لیکن شریر لوگ ایک کھیل کے میدان میں جو مخصوص میدان ہے، رات میں اس میں لوگ پاخانہ پیشاب کرتے ہیں، اس جگہ عید کی نماز ہو سکتی ہے یا نہیں، اگر نماز نہ ہوئی تو اس کے ذمہ دار کون ہیں، واضح ہو کہ مسجد سے متصل ہی میدان واقع ہے؟

جواب

جب نماز عید کیلئے مستقلاً عید گاہ موجود ہے تو بلا وجہ اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے میدان میں نماز عید ادا کرنا غلط طریقہ ہے، اگر وہاں جگہ ناپاک ہوگی تو وہاں نماز بھی درست نہ ہوگی، اگر وہاں پڑھنے کی کوئی صحیح جگہ موجود ہے تو اس کو پہلے اس طرح صاف کرا دیا جائے کہ نماز کے صحیح ہونے میں کوئی تامل نہ رہے، مگر اس سے وہ جگہ عید گاہ نہیں بن جائیگی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو