نماز عید کو مؤخر کرنا
سوال
۲۹ ذی قعدہ کو بوجہ بادل عامۃ الناس کو ہلال عید الاضحیٰ نظر نہیں آیا، چند معتبر آدمیوں نے بادل کے بیچ میں ہلال عید الاضحیٰ دیکھا، ۹/ذی الحجہ کو امام عید گاہ کو شہادت معتبرہ سے صحیح ثبوت ہونے پر ۱۰/ذی الحجہ پیر کو نماز کا اعلان کر دیا، اسپر چند حضرات نے یہ مشورہ دیا کہ امسال بادل کی وجہ سے چاند نظر نہیں آیا، عامۃ الناس کو منگل کو عید ہونا معلوم ہے، اگر ۱۰/ذی الحجہ پیر کو نماز ہوگی تو دیہاتی لوگ محروم ہو جائیں گے اس پر فتنہ ہوگا، کوئی نماز پڑھے گا کوئی نماز نہیں پڑھے گا، اسپر امام عیدگاہ نے یہ جواب دیا کہ صحیح ثبوت…
جواب
ثبوت رؤیت کے بعد بلا عذر نماز عید الاضحیٰ کو ایک روز مؤخر کرنا مکروہ ہے، اہل دیہات پر نماز عید لازم نہیں ان کی رعایت شرعی عذر نہیں۔ اگر ثبوت رؤیت ہی نہ ہو یا شرعی عذر ہو تو اس کی وجہ سے مؤخر کرنا مکروہ نہیں وتؤخر صلوة عيد الفطر بعذر كأن غم الهلال وشهدوا بعد الزوال اوصلواها في غيم فظهر انها كانت بعد الزوال فتؤخر الى الغد فقط وتؤخر صلواة عيد الاضحى بعذر لنفى الكراهة وبلاعذر مع…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔