الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خطبہ جمعہ کے وقت چندہ

سوال

ہماری مسجد یوسفیہ بازار میں جمعہ کے دن خطبات موعظہ مصنفہ مولانا ذاکر حسین پھلتی صاحب کے پڑھے جاتے ہیں۔ اس میں عربی کے ساتھ ترجمہ تفصیل سے بطور وعظ لکھا گیا ہے اور خود مصنف نے اپنے دیباچہ میں لکھا ہے کہ اردو ترجمہ عربی سے پہلے منبر کے پاس ٹھہر کر سنانا بہتر ہے۔ چنانچہ امام صاحب ترجمہ پڑھتے ہیں۔ پھر سنت ادا کی جاتی ہے، پھر عربی خطبہ پڑھ کر فرض پڑھتے ہیں۔ اردو ترجمہ کے درمیان مصلیوں کے درمیان ایک ڈبہ گشت کرایا جاتا ہے جس میں لوگ پیسہ ڈالتے ہیں۔ اس ڈبہ پر چندہ برائے طعام مسافرین و حاجتمندان مسجد یوسفیہ“ لکھا ہے۔

جواب

خطبہ جمعہ تو فرض اور جمعہ کے لئے شرط ہے اس کو سننا ضروری ہے، کوئی ایسا کام کرنا منع ہے جو سننے میں مخل ہو اذان خطبہ سے پہلے جو کچھ بھی بیان کیا جائے خواہ ترجمہ خطبہ ہو یا کوئی اور وعظ و نصیحت ہو اس کا حکم خطبہ جمعہ کی طرح نہیں تاہم اس کو بھی اہتمام سے سنا جائے، اس وقت بھی چندہ وغیرہ جمع نہ کیا جائے۔ بلکہ اس کے لئے دوسرا وقت تجویز کر لیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو