الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خطبہ جمعہ کے وقت چندہ کرنا

سوال

(۱) خطبہ جمعہ و عیدین کے مسنون و مشروع ہونے کی غرض کیا ہے۔ الف: - اگر اس کا مقصد اس مجمع کو مسائل جزئیہ شرعیہ اس دن یا اس نماز کے متعلق مقام خطبہ پر کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر سکھانا یا تعلیم دینا ہے تو اس کا جو وقت منجانب شرع متعین ہو چکا ہے اس میں تغیر و تبدل یا تقدیم و تاخیر یا طریقہ بیان میں جدت پیدا کرنا بدعت ہے یا نہیں؟ ب: - اگر بدعت ہے تو اس کا جواز کسی مصلحت پر مبنی پیدا کرنے کا حق کسی مولوی یا مولوی نما عالم کو ہے یا نہیں؟ ج: - كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ ارشاد نبوی کلیہ ہے یا نہیں؟

جواب

(۱) ہماری غرض تو تکمیل ارشاد ہے، شارع کی غرض کیا ہے؟ وہ علم شارع میں ہے۔ الف: کوئی تغیر نہ کیا جائے۔ ب: - طریقہ مشروعہ کے خلاف کرنے کی اجازت نہیں۔ ج: کلیہ ہے د: غیر دین کو دین سمجھنا بدعت ہے ه: کلیہ کوکلیہ نہ ماننا بدعت کو غیر بدعت کہنا بدعت ضلالہ ہے۔ و: اوپر بیان کر دیا۔ (۲) تخطی رقاب ممنوع ہے یا نمازیوں کے سامنے سے مرور بھی ممنوع ہے ألف: صحیح العمل نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو