الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خطبہ کے وقت نمازیوں سے چندہ وصول کرنا

سوال

ہماری مسجد میں جس قدر نمازی آتے ہیں جمعہ میں تقریباً وہ سب فیکٹریوں کے ملازم ہوتے ہیں ان کے پاس وقت کم ہوتا ہے اور ہر ایک کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ نماز جمعہ سے جلد از جلد فارغ ہو کر اپنی ڈیوٹی پر پہونچ جائیں تا کہ غیر حاضری نہ ہو گھنٹہ دو گھنٹہ کی تاخیر سے سروس اور تنخواہ میں نقصان نہ پیدا ہو اس لئے یہاں زوال کے بعد فوراً ہی پہلی اذان کہی جاتی ہے اور اذان خطبہ کے درمیان دس پندرہ منٹ سے زائد کا وقفہ نہیں ہوتا، اگر مسجد میں نماز کی غرض سے عموماً نمازیوں کی آمد نماز کی اذان سے تقریباً آدھ پون گھنٹہ پہلے شروع ہو جاتی…

جواب

چندہ وصول کرنے کیلئے یہ وقت متعین کرنا صحیح نہیں، غلط طریقہ ہے، یا تو اس سے پہلے وصول کیا جائے یا نماز سے فراغت پر وصول کیا جائے، مراقی الفلاح میں لکھا ہے کہ جو چیز عین نماز کی حالت میں منع ہے وہ چیز خطبہ کی حالت میں بھی منع ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو