جمعہ کی نماز میں شوافع کے یہاں کتنے آدمی ضروری ہیں
سوال
ایک قریہ میں شافعیوں کی دو مسجدیں ہیں۔ ایک مسجد میں جمعہ میں بیس آدمی، دوسری میں تیس آدمی جمع ہوتے ہیں۔ چونکہ شافعی مذہب میں جمعہ کے لئے یہ افراد شرط ہیں باوجود ہونے کے یہ دونوں مسجد والے ایک جگہ جمع نہیں ہوتے، الگ الگ ہی نماز پڑھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ امام شافعی کے ایک قول میں نماز جمعہ کے لئے بارہ آدمی بھی کافی ہیں، کیا یہ قول صحیح ہے؟ سوال: ایک قریہ میں پندرہ ہی گھر ہیں، ایک ہی مسجد ہے جمعہ میں محض تیرہ چودہ آدمی ہوتے ہیں۔ شوافع کے لئے نماز جمعہ کے واسطے مذکورہ قول کفایت کرتا ہے کیا؟
جواب
(۱) الدراسات الفقہیہ ص ۱۱۵ ارج ۲ میں متعدد اقوال بیان کئے ہیں۔ چالیس کے عدد کو معتمد لکھا ہے، بارہ کا عدد امام مالک کا مذہب بیان کیا ہے۔ سیوطی نے الحاوی للفتاوی ص ۶۶ رج ار میں ارجح المذاہب اس چیز کو لکھا ہے کہ جمعہ کے لئے جماعت میں مجمع کثیر ہونا چاہئے، کوئی عدد معین ضروری نہیں۔ چالیس کے عدد کو دلیل کے اعتبار سے قوی قرار نہیں دیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔