جمعہ کی نماز کے لئے کسی بستی میں جانا
سوال
جب دیہات میں نماز جمعہ جائز نہیں ہے، وہاں کے لوگ قصبہ میں جو کہ گاؤں سے تین یا چار میل کے فاصلہ پر ہے، اور وہاں جمعہ کی نماز بالکل جائز ہے اور سائیکل سے یا پیدل آسانی سے جا سکتے ہیں۔ (۲) مگر محض کسل کی بنا پر یا دنیا کمانے میں انہماک کی بنا پر نہ جائیں بلکہ اپنے گاؤں میں جمعہ کے بجائے ظہر کی نماز تنہاء پڑھ لیں اور عیدین کی نماز قصبہ میں پڑھنے نہ جائیں تو جمعہ کے گنہگار تو نہ ہوں گے؟
جواب
نہایت ہمدردی اور دلسوزی سے مسئلہ بتا کر بند کرانے کی کوشش کی جائے، اگر فتنہ پیدا ہو مثلاً لوگ پنجگانہ نماز بھی چھوڑ دیں یا فساد کریں، سر پھٹول اور مقدمہ بازی کی نوبت آئے تو مسئلہ بتا کر خاموشی اختیار کی جائے۔ بالکل گنہگار نہیں کیونکہ ان کے ذمہ وہاں جانا واجب نہیں، ان کی خوشی پر موقوف ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔