چھوٹی بستی میں نماز جمعہ بند کرنے سے لوگوں نے فرض نماز بھی چھوڑ دی
سوال
ہمارے گاؤں کی آبادی اس وقت ۱۰۰ ا ر ہے پرچون کی دکانیں ہیں تمام ضرورتیں ایک قصبہ دومیل پر ہے وہاں سے سب ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں آپ کے پاس تین فتاوے روانہ کئے تھے جمعہ کے بارے میں آپ نے بند کرادیا، یہ لوگ نہ رمضان کے روزے رکھیں گے نہ تراویح پڑھیں گے اور نہ نماز پڑھیں گے اور نہ خیرات زکوۃ دیں گے۔
جواب
حافظ عینی نے شرح بخاری میں ابوزید کی کتاب الاسرار سے اس کو مرفوعاً بھی نقل کیا ہے، بذل المجهود اور اوجز المسالک اعلاء السنن اور آثار السنن سب کتابوں میں موجود ہے کہ مدینہ طیبہ کے آس پاس چھوٹے چھوٹے گاؤں تھے جن کو عوالی کہا جاتا ہے، وہاں جمعہ نہیں پڑھا جاتا تھا اور حضور ﷺ نے کبھی وہاں جمعہ کے لئے نہیں فرمایا، وہاں کے لوگ باری باری جمعہ کیلئے مدینہ پاک میں حاضر ہوا کرتے تھے، یہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔