الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قصبہ سے قریب گاؤں والوں پر جمعہ

سوال

زید جس گاؤں میں رہتا ہے اس کی آبادی ۵۰۰ کی ہے پھر قصبہ سے ڈیڑھ میل دور ہے۔ کبھی کبھی اذان کی آواز قصبہ کی گاؤں میں بھی آجاتی ہے۔ زید کا کہنا ہے کہ میرے گاؤں میں قصبہ کی اذان کی آواز آ جاتی ہے۔ اس لئے ہم پر جمعہ فرض ہے۔ دریافت طلب یہ ہے کہ زید کے ذمہ سے ظہر ساقط ہو جاتی ہے یا نہیں؟ جبکہ جمعہ کی اذان قصبہ میں جا کر پڑھتے تھے۔

جواب

زید پر اس گاؤں میں رہتے ہوئے جمعہ لازم نہیں۔ نہ اس کے ذمہ یہ لازم ہے کہ اس گاؤں میں پڑھے۔ اس لئے کہ یہ گاؤں قریۂ صغیرہ ہے نہ اس کے ذمہ لازم ہے کہ ایک میل یا ڈیڑھ میل دور جا کر قصبہ میں پڑھے اگر چہ وہاں سے کبھی اذان کی آواز بھی سنائی دیتی ہو۔ یہی قول اصح ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو