مزرعہ قریبہ میں نماز جمعہ
سوال
جس قصبہ میں بلا شک و شبہ جمعہ جائز ہو کیا اس قصبہ کے مزرعہ میں جبکہ اس مزرعہ میں صرف پندرہ گھر ہوں اور وہ مزرعہ باغ اور کھیتی کی وجہ سے اہل قصبہ کی آبادی سے الگ ہوا اور خواہ وہ مزرعہ قصبہ سے کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو۔ کیا مزرعہ میں جمعہ جائز نہ ہوگا؟ مثلاً مزرعہ پانچ فرلانگ تک کے فاصلہ پر ہو۔ جیسا کہ میرا مزرعہ پانچ فرلانگ کے فاصلہ پر ہے۔ (الف) اگر قصبہ کا کوئی محلہ قصبہ کی اصل آبادی سے الگ ہو، درمیان میں بنجر زمین و کھیت باغات ہوں۔
جواب
(الف، ب) جو مزرعہ اتنے فاصلہ پر ہو کہ دیکھنے سے بالکل جداگانہ بستی معلوم ہو وہاں جمعہ درست نہیں۔ اسی طرح محلہ کا حال ہے۔ جو محلہ یا مزرعہ دیکھنے سے اسی بستی کا جزء معلوم ہوتا ہو۔ اگر چہ درمیان میں کوئی کھیت یا تالاب وغیرہ بھی آگیا ہو وہاں جمعہ درست ہے۔ اور اس کی آبادی کو بھی اصل بستی کی ہی آبادی تصور کیا جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔