جس بستی میں شرائط نہ ہوں اور پھر بھی جمعہ پڑھا جائے اس کا حکم
سوال
میں دارالعلوم کے فیض علم سے کچھ مستفید ہوا ہوں ہمارے علاقے کے چھوٹے چھوٹے گاؤں میں عام طور سے جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے، میرے گاؤں میں بھی روکنے سے لوگ رکتے نہیں۔ خود رکنے اور مسئلہ کو اٹھانے سے خطرہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ لوگ مخالف ہو جائیں گے اور جو کچھ دین کی باتیں سن کر عمل کر لیتے ہیں اس بدظنی اور مخالفت کے بعد وہ بھی بند ہو جائے گا حتی کہ باتیں سننے کو بھی تیار نہ ہوں گے۔ اسی مصلحت سے اب تک ہمارے علاقے کے علماء اس مسئلہ میں ساکت ہیں، اور خود بھی ان گاؤں میں جمعہ پڑھ لیتے ہیں۔
جواب
(۱) حنفیہ کا مسلک اس مسئلہ میں بالکل صاف ہے اور اس پر مستقل رسائل مع الدلائل شائع شدہ ہیں۔ اوثق العریٰ احسن القرى القول البدیع وغیرہ حدیث وفقہ کے دلائل سے مزین ہیں۔ جس مقام پر جمعہ درست نہیں وہاں ظہر کی نماز با جماعت ادا کی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔