کیا تین گاؤں مل کر ایک جگہ جمعہ پڑھیں؟
سوال
موضع بمبے والا ڈاکخانہ ملکوال تحصیل بهلوان ضلع سرگودھا پاکستان، اس گاؤں کی آبادی آٹھ سونو سو کے قریب ہے۔ نماز ظہر وعصر میں نمازی کاروبار کی وجہ سے ۳۰/۲۵ ہو جاتے ہیں۔ مغرب و عشاء و فجر کی نماز میں پچاس ساٹھ ہو جاتے ہیں۔ نمازیوں کا خیال ہے کہ اس گاؤں میں نماز جمعہ ادا کی جائے۔ یہاں سے شہر ملکوالی اور صیانوالی سات سات میل کے فاصلہ پر ہیں وہاں دو مسجدوں میں نماز جمعہ ہوتی ہے وہاں نمازیوں کا جانا مشکل ہے۔
جواب
جبکہ وہ تینوں گاؤں اپنے نام اور آبادی کے اعتبار سے الگ الگ ہیں اور ایک ایک میل کا فاصلہ ہے اور جداگانہ کسی میں بھی شرائط جمعہ موجود نہیں تو پھر تینوں مل کر ایک گاؤں میں جمعہ پڑھنا بھی درست نہیں۔ سب کو ظہر کی نماز ادا کرنی چاہئے۔ اگر کوئی شخص کسی دوسری جگہ (جہاں شرائط جمعہ موجود ہوں) جاکر جمعہ پڑھے گا تو اس کے ذمہ سے بھی فریضہ ظہر ساقط ہو جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔