موضع دادری میں جمعہ
سوال
ہاپوڑ سے دو میل کے فاصلہ پر دادری ایک گاؤں ہے، جس کی کل آبادی ڈھائی ہزار اور مسلم آبادی چار سو ہے اس میں ایک مسجد بھی ہے۔ جس میں برسوں سے جمعہ ہوتا رہا۔ اس سال ایک امام صاحب آئے۔ انہوں نے مسئلہ پوچھ کر جمعہ بند کر دیا۔ اس کے بعد ایک دوسرے امام صاحب آئے انہوں نے بھی جمعہ نہیں پڑھایا۔ جو لوگ صرف جمعہ پڑھتے ہیں ان لوگوں کا بہت اصرار ہوا۔ بہر کیف ۱۹ محرم کو جو جمعہ گذرا اس میں امام صاحب نے مجبوراً جمعہ پڑھایا۔ اس گاؤں میں دو تین بہت چھوٹی چھوٹی دکانیں ہیں جس میں پوری ضروریات نہیں ملتیں حتی کہ چینی بھی نہیں ملتی۔
جواب
اگر آپ کے گاؤں کی حالت مشتبہ ہے تو بہتر یہ ہے کہ کسی عالم کو جو تجربہ کار ہو اور فقہی مسائل میں مہارت رکھتا ہو بلا کر معائنہ کرادیں۔ وہ سب حالات دیکھ کر جمعہ جائز بتلائے تو پڑھنا شروع کریں منع کرے تو نہ پڑھیں۔ عوام کی دلیل کہ ہم باقی ہفتہ نماز نہیں پڑھتے جمعہ کے روز ہاتھ منہ دھولیں وضو کر لیں الخ شرعی دلیل نہیں، عامیانہ وجاہلانہ بات ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔