دو ہزار کی آبادی میں جمعہ وعیدین وقربانی
سوال
زید کے گاؤں کی آبادی تقریباً دو ہزار ہے۔ زمانہ سے نماز عیدین اور جمعہ کی نماز یہاں پڑھی جاتی ہے۔ ضرورت کی چیزیں گاؤں میں دستیاب ہیں، اشیاء ضروریہ کی دوکانیں گاؤں میں ہیں۔ کیا ایسی آبادی میں احناف کے نزدیک جمعہ اور عیدین کی نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ نیز کیا ایسی آبادی میں متعدد مساجد میں جمعہ کی نماز ادا کی جاسکتی ہے؟ (۲) جس آبادی کا اوپر ذکر ہوا ہے کیا اس آبادی میں عید الاضحیٰ کی نماز سے پہلے قربانی کرنا درست ہے۔ اور اگر درست نہیں ہے اور کسی نے قربانی کر دی ہے تو کیا اس شخص کو قربانی کے عوض صدقہ کرنا پڑے گا؟
جواب
بہتر یہ ہے کہ کسی تجربہ کار عالم مفتی کو بلا کر معائنہ کرا دیا جائے وہ پورے طور پر دیکھ کر جو فتوی دے اس پر عمل کیا جائے۔ محض تحریر سے پوری کیفیت معلوم نہیں ہوتی۔ جس بستی میں شرائط جمعہ موجود ہوں وہاں جمعہ بھی ادا کیا جائے اور عیدین کی نماز بھی پڑھی جائے اور قبل از نماز عید الاضحی قربانی درست نہیں۔ اگر قربانی کر دی ہے تو اس سے واجب ادا نہیں ہوا۔ قربانی کی قیمت صدقہ کی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔