شہر ہونے کا مدار عرف پر ہے
سوال
موضع کبیرہ وہ جس کی مردم شماری چار ہزار ہے اور مختلف قسم کی تیرہ معمولی دکانیں، لوہار، بڑھئی، سنار، کمہار، عطار وغیرہ کی ہیں، ڈاکخانہ بھی ہے، یہاں تقریباً چالیس پچاس سال سے جمعہ پڑھایا جا رہا ہے، مگر پہلے سے اختلاف بھی چلا آ رہا ہے، چار مسجدیں ہیں اور ایک عید گاہ بھی ہے، یہ بستی نہ قصبہ ہے اور نہ مثل قصبہ ہے مکان کچے اور پکے مخلوط طریقہ پر ہیں مگر کثرت کچے مکانوں کی ہے، مذکورہ حالات میں جب کہ حنفیہ کے نزدیک مصر اور شہریت جواز جمعہ کے لئے شرط اولیں ہے، آیا مذکورہ بستی اپنی نوعیت میں شہریت حکمیہ کی حامل عند الشرع ہے…
جواب
اتنی بات تو متفق علیہ ہے کہ نماز جمعہ کا حال دیگر صلوۃ خمسہ کی طرح نہیں کہ جب بھی اور جہاں بھی (آبادی، صحرا، کشتی میں) اور جیسے بھی (تنہا یا جماعت سے) پڑھی جائے تو درست ہو کر فریضہ ذمہ سے ساقط ہو جایا کرے، حافظ ابو بکر جصاص نے احکام القرآن میں اس کی تصریح فرمائی ہے، نماز جمعہ کے لئے کچھ خصوصیات و شرائط ہیں ان میں سے ایک شرط مصریت بھی ہے، مصریت کی تعریف جو کی جاتی ہے وہ حد…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔