مرتد ہونے سے کفارہ ساقط نہیں ہوتا
سوال
زید نے کہا کہ میں رات میں قرآن شریف کے ایک صفحہ کو حفظ کروں گا، ورنہ جتنی دفعہ جتنا کھانا کھاؤنگا، سب میرے لئے حرام ہے، اب زید نے حفظ قرآن شریف پڑھنا چھوڑ دیا، اور چند دن کے بعد اس نے یہ خیال کر کے کہ میں نے جو قسم کھائی ہے، اس کا شاید کفارہ نہیں ہو سکتا ہے، یہ گمان کر کے العیاذ باللہ مرتد ہو گیا، پھر ایک گھنٹہ کے بعد اسلام لایا، اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ زید اسلام لانے کے بعد وہ قسم کے کفارہ سے سبکدوش ہو گیا یا نہیں؟ اگر نہیں ہوا تو کیا کرنا چاہئے؟
جواب
حالت اسلام میں جو کفارہ لازم ہے ارتداد سے اس کے سقوط میں اختلاف ہے، محققین کے نزدیک ساقط نہیں ہوتا، پس تجدید اسلام کے بعد کفارہ کی ادائیگی لازم ہے۔ طحطاوی، ج ۲ ص ۴۸۸“ علامہ شامی نے بھی رد المحتار میں اسی کو اختیار کیا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔