نکاح اور بچہ پیدا ہونیکے بعد شوہر نے کہا میں تو عیسائی ہوں
سوال
ایک شخص نے جو اندرونی عیسائی تھا لیکن ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان بنا کر ایک مسلمان لڑکی سے نکاح کر لیا، عرصہ تقریباً گیارہ بارہ مہینے کے بعد جب کہ اس کا ایک لڑکا بھی پیدا ہو چکا تھا، اب وہ شخص ناکح مندرجہ بالا اپنے آپ کو عیسائی بتاتا ہے، اور مذہب اسلام کو جھوٹا کہتا ہے۔ (۱) کیا عند الشرع وہ نکاح فاسد ہو گیا یا نہیں؟ (۲) اب وہ لڑکا کس کو ملنا چاہئے، والد کو یا والدہ کو۔ (۳) حق مہر وہ لڑکی لے سکتی ہے یا نہیں، جواب ہر سہ نمبرات کا با سند ہے۔
جواب
(۱) صورت مسئولہ میں نکاح فسخ ہو گیا، عدت گزار کر عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنا درست ہے: وارتداد احدهما اى الزوجين فسخ فلا ينقص عدد عاجل بلا قضاء اى بلا توقف على قضاء القاضی در مختار وشامی ج: ۲، ص: ۶۰۶. (۳) پورا مہر واجب ہے، اور لڑکی کو اس کے لینے کا حق حاصل ہے: المهر يتأكد باحد معان ثلاثة الدخول والخلوة الصحيحة وموت احد الزوجين سواء كان مسمى او مهر المثل هنديه ص: ۳۱۴، ج: ۲.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔