الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شوہر مرتد ہو گیا

سوال

مسماۃ نگینہ کا بعمر دس سال مسلمی ادریس سے بعمر چودہ سال نکاح ہوا جسکو تین سال ہو چکے ہیں، بعد نکاح رخصتی کر دی گئی، اور ایک رات شوہر کے گھر رہی، دو چار دن بعد لڑکا فرار ہو گیا اور جا کر مذہب بدل دیا، ہندو ہو گیا، لڑکی والوں کو جب علم ہوا تو وہ اسکے پاس گئے اور کہا کہ عورت گھر پر ہے اور تم نے مذہب بدل دیا، تم گھر چلو مگر چلنے سے انکار کر دیا، متعدد مرتبہ سمجھایا لیکن سمجھ میں نہیں آیا، مجبوراً واپس ہو گئے، اب چند ماہ سے اسکا پتہ نہیں، اسکی والدہ سے کہا گیا کہ ایسی صورت میں لڑکی کو دوسری جگہ بٹھلا دیں، جواب دیا کہ…

جواب

اگر عقیدہ بدل کر ہندو ہو جانا ثابت ہے، تو اس کے ہندو ہونے کی وجہ سے اس کا نکاح بلا طلاق خود ہی فسخ ہو گیا، اس لئے عدت گزارنے کے بعد اس کا نکاح دوسری جگہ جائز ہے، جس وقت سے لڑکا ہندو ہوا ہے اس وقت سے عدت کا شمار ہوگا، مدت تین ماہواری ہے اور بصورت امید وضع حمل ہے: وارتداد احدهما فسخ عاجل بلا قضاء در مختار وجوب العدة سواء ارتدا وارتدت بالحيض او بالاشهر لو صغيرة اوائسة او بوضع…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو