مرتد سے سمجھوتہ
سوال
اگر کوئی مسلمان کسی مرزائی یا دوسرے مرتد کی پرورش یا حمایت کرے یا کسی قسم کا سمجھوتہ کرلے، یا پھر وہ مسلمان شخص مرتد کو کافر نہ کہتا ہو، جبکہ وہ شخص یہ بھی جانتا ہے کہ مرتد کو کافر نہ کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے، اور پھر سمجھانے کے باوجود باز نہ آئے اور مرتد کو کافر نہ کہتا ہو اور وہ کسی قسم کا سمجھوتہ کرلے خواہ وہ کسی سطح کا ہو یا حمایت کرلے، اس کو آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا اس شخص کو دوبارہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونا پڑیگا، اور کیا اس کا شوشل بائیکاٹ بھی کرنا پڑے گا؟
جواب
آپ سوال بھی کر رہے ہیں اور خود جواب بھی بتا رہے ہیں، جب آپ کو جواب معلوم ہے تو دریافت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ سمجھوتہ کے لئے دوستی کہاں ضروری ہے صلح حدیبہ میں اہل مکہ سے سمجھوتہ کیا گیا تھا، حالانکہ وہ اس وقت بھی دشمن تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی دشمن تھے، اسلام کے بھی دشمن تھے، مسلمانوں کے بھی دشمن تھے، اسی سمجھوتہ کا تذکرہ قرآن کریم میں ہے، اور اس کو فتح فرمایا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔