مرتد سے موالات
سوال
جو لوگ شرعاً شریعت کے مجرم ہوں تبدیلی مذہب پر ان پر حد نافذ ہوگئی ہو، بروئے فتویٰ شرعی اور ان سے ترک موالات کا حکم ہو اور جولوگ ان سے ترک موالات کرتے ہوں، اور دوسرے لوگ ان کے ساتھ موالات کرتے ہوں، اور ان کے اس فعل کو اچھا سمجھتے ہوں، اور اپنی ہوشیاری سے ان کے اس فعل کو غلط یا جائز بتاتے ہوں،ایسے لوگوں کے لئے شرعاً کیا ہے؟
جواب
جو شخص مذہب اسلام چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کرلے وہ مرتد ہے اس سے موالات حرام ہے، جو اس سے موالات کرے وہ گنہگار ہے، اس کو اپنے اس فعل سے توبہ لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔