مرتد کے احکام
سوال
ایک مسلمان اپنے کو کھلم کھلا کافر، مرتد کہتا ہے، اب اس کے ساتھ اسلامی معاملہ کرنا حلال ہے، یا حرام؟ کھانا، نکاح کرنا یا سلام کرنا حرام ہے یا حلال؟
جواب
اگر وہ دین اسلام کو ترک کر کے کفر کے اختیار کرنے کا مقر ہے، یا اس پر شرعی ثبوت موجود ہے تو وہ منافق نہیں بلکہ مرتد ہے، اس کا نکاح کسی سے بھی جائز نہیں، اس کا ذبیحہ بھی حرام اور مردار ہے، ومنها ماهو باطل بالاتفاق نحو النكاح فلا يجوز له ان يتزوج امرأة مسلمة ولا مرتدة ولا ذمية ولا حرة ولا مملوكة وتحرم ذبيحته وصيده بالكلب البازي والرمي كذا في الفتاوى الهنديه، ج ۲، ص ۲۳۳/
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔