جو دب کر مر جائے وہ شہید ہے
سوال
شاہد مشہور پہلوان تھا جو کہ اپنی طاقت سے فرعون کو شکست دینے کی گھات میں رہتا تھا، ناگاہ وہ ٹرک جس میں شاہد کام کرتا تھا، درخت سے ٹکرایا اور پہلوان نے چوٹ کھائی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا، آپ تحریر فرمادیں گے کہ پہلوان کو مقام شہادت ملا یا نہیں، شاہد ہمدرد ملت تھا، لیکن مزاج کا گرم تھا اکھڑ ہندو اور کچھ متعصب مسلمان اس سے ڈرتے تھے، اس لئے موت کے بعد ان لوگوں نے طعنہ دیا کہ وہ بد خلق تھا اس لئے جلدی مر گیا؟ آپ فرمادیں کہ انسان کی عمر کسی وجہ سے گھٹ بڑھ سکتی ہے یا نہیں؟
جواب
جو شخص گر کر یا دب کر مر جائے وہ بھی شہادت کا ثواب پائے گا اب اس پر طعن نہیں کرنا چاہئے بہت غلط طریقہ ہے عمر میں حقیقہ کمی وزیادتی نہیں ہوتی جتنی لکھ دی گئی ہے بس اتنی ہی رہتی ہے، البتہ بعض آدمیوں کی عمر میں برکت ہوتی ہے، اس طرح کہ وہ تھوڑی عمر میں بھی بہت کام کر لیتے ہیں، کہ دوسرے زیادہ عمر میں بھی نہیں کر پاتے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔