شہید کا غسل وکفن
سوال
آج کل فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کو محض مسلمان ہونے کے جرم میں قتل کر دیا جاتا ہے، اسمیں لوگ مقتول کو غسل دیتے ہیں اور جو کپڑے خون میں آلودہ ہیں انکو نکال کر دوسرے کپڑے میں تجہیز و تکفین کرتے ہیں انکو غسل دلایا اور نئے کپڑے میں کفنایا جائے؟
جواب
فرقہ وارانہ فسادات میں جو مسلمان قتل کر دیئے جاتے ہیں، اگر وہ مرتد نہیں ہیں اور عاقل و بالغ اور محدث بحدث اکبر نہیں ہیں تو انہیں (چاہے مرد ہو یا عورت) اسی خون اور کپڑوں میں کفنا کر بغیر غسل دیئے نماز پڑھ کر دفنایا جائے خون آلودہ تمام کپڑے نکال دینا مکروہ ہے، البتہ جو زائد از کفن سنت ہو اس کو نکال دیا جائے مرد اگر جنبی ہے یا عورت حائضہ یا نفساء ہے تو انہیں اور بچہ و مجنون کو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔