شہید وطن کون ہے
سوال
اگر کوئی مسلمان جو جنگ آزادی میں مارا گیا ہو اس پر شرعی شہید کا اطلاق ہوگا یا نہیں؟ اور وہ آیت مذکور و لا تقولوا لمن يقتل (الآية) کا مصداق ہو سکتا ہے یا نہیں؟ زید کہتا ہے کہ یہ لڑائی کفر و اسلام کی نہیں تھی بلکہ دیش اور ملک کو آزاد کرانے کی تھی اس لئے اسے شرعی شہید نہیں کہا جا سکتا۔ اور آیت مذکورہ کا مصداق بھی وہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔
جواب
اگر وہ جنگ احکام اسلام کے تحت تھی کہ انگریز کا تسلط ختم کر کے اسلام کو بلند کیا جائے تو اس میں مقتول ہونیوالے شرعی شہید ہیں، غیر شہیدوں کو شہیدوں کے ساتھ نہ ملایا جائے، جو وہ عالم صاحب شہید نہیں تو کیوں کہا جائے کہ وہ شہیدان وطن سے ملگئے اگر شہیدان وطن سے مراد غیر مسلم ہیں تو اس میں ان عالم صاحب کے متعلق بہت سخت حکم ہے، اگر مسلم افراد ہیں تو یہ غلط ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔