جس میت کے متعلق مسلم اور غیر مسلم ہونے کا علم نہ ہو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟
سوال
ہمارے یہاں ایک کمیٹی ۱۷۸۰ء سے لاوارث مسلمانوں کی میت کی تجہیز و تکفین کی ذمہ داری لئے ہوئے ہے، ہر مہینہ ۵۰/۴۰ / لاشیں شہر کے مختلف اسپتالوں سے ادارہ کو دی جاتی ہیں، اور اس کے ساتھ افسر کا سارٹیفکٹ ہوتا ہے، نام کی جگہ نامعلوم لکھا ہوتا ہے، ادارہ کا کام پہلے لاش کو شناخت کرنا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ شناخت کا واحد ذریعہ مسلمان مرد کا صرف ختنہ ہی ہے اور لباس، وضع قطع سے کچھ علم نہیں ہوتا سوائے غالب گمان کے کہ میت مسلمان ہی ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ ختنہ یہودی بھی کراتے ہیں اور بہت سے غیر مسلم بھی حفظانِ صحت کی وجہ سے ختنہ…
جواب
ان حالات میں ظن غالب پر ہی عمل کیا جا سکتا ہے، لیکن اصحاب ادارہ کو خواہ سارٹیفکٹ سے یا ختنہ سے یا کسی اور علامت سے اس بات کا ظن غالب حاصل ہو جائے کہ یہ میت مسلمان ہے تو اس کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے جو مسلم میت کے ساتھ کرنے کا حکم ہے، جب حقیقت حال پر اطلاع پانا دشوار ہو تو ظن غالب شرعاً کافی ہوتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔