پیر صاحب کی میت کے متعلق عجیب عجیب امور جو کہ بدعت ہیں
سوال
ایک شخص کا انتقال ہو گیا، پیر کے ماننے والوں نے تجہیز و تکفین اور تدفین کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل امور کئے: (۱) نماز جنازہ پڑھانے کے بعد بالقصد قبر کھودنے میں دیر کرنا بایں وجہ کہ ان کے مرید ین دور دراز سے آنے والے ہیں وہ لوگ ان کے چہرہ کو دیکھ لیں؟ (۲) قبر میں مردے کو رکھ کر ایک دوروز قبر کھلی ہوئی رکھنا؟ (۳) چھوٹی الائچی پیس کر مردے کے بدن میں لگانا؟ (۴) میت کے غسالہ (دھوون) کو تبرک سمجھ کر پینا، اور پلانا؟ (۵) قبر کو چھ فٹ گہرا کھودنا تا کہ پیر قبر میں کھڑ ہو کر نماز پڑھ سکیں؟ (۶)
جواب
میت اور اس کے غسل اور دفن اور قبر سے متعلق چھوٹے سے چھوٹے مستحبات بھی کتب فقہ میں مذکور ہیں اور مسئولہ چیزوں کا ذکر نہ قرآن کریم میں ہے، نہ حدیث شریف میں، نہ فقہ کی مستند کتب میں، پس یہ سب چیزیں بے اصل ہیں بے دلیل ہیں، جہالت ہیں ضلالت ہیں، بدعت ہیں، اور بعض ان میں سے شرک ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ مسلمانوں کو صحیح راستہ پر چلائے اگر دلائل کا مطالبہ کرنا ہے تو جو لوگ ان چیزوں کے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔