الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نماز پڑھانے کی وصیت واجب العمل نہیں

سوال

کسی مرنے والے نے وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد جنازہ کی نماز فلاں آ دمی پڑھائے اور اس فلاں کے آنے میں تین دن یا زیادہ دن لگ جائیں، تو آیا اس نعش کو فلاں کے آنے تک باقی رکھا جائے، یا کسی دوسرے آدمی سے نماز جنازہ پڑھوا کر دفن کر دیا جائے؟

جواب

مرنے والے نے وصیت کی کہ میرے جنازہ کی نماز فلاں آدمی پڑھائے، جو کہ اس وقت موجود نہیں، اس کے آنے میں تین دن لگیں گے، تو اس کا انتظار نہ کیا جائے، بلکہ دوسرا مناسب آدمی نماز جنازہ پڑھا دے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو