ماں بیٹے سے ناراض پھر قسم کھالے
سوال
میری والدہ ماجدہ کچھ عرصہ پہلے مجھ سے ناراض ہوگئی تھیں، اس وقت میری والدہ نے یہ کہا کہ تو میرے جنازہ کو ہاتھ بھی نہ لگانا، اب کچھ دنوں سے ان کا غصہ ٹھنڈا ہے، مگر میرے یہاں کھانا وغیرہ نہیں کھاتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ کھانا جب کھاؤنگی، جب دارالعلوم دیو بند سے فتوی آجائیگا، کہ میرے یہ کہنے کا کہ میرے جنازہ کو ہاتھ نہ لگانا کیا کفارہ ہے، وہ ادا کر دوں تب کھانا وغیرہ کھاؤں گی، لہذا اس بارے میں فتوی صادر فرمادیں، عین نوازش ہو گی؟
جواب
اگر والدہ نے غصہ میں یہ کہہ دیا تھا کہ میرے جنازہ کو ہاتھ نہ لگانا، پھر وہ غصہ ختم ہو گیا، اور آپ کے مکان پر کھانا کھانے سے ان کو اپنے اس قول کیوجہ سے عذاب کا خطرہ ہے، تو شرعاً یہ عذر معتبر نہیں، ان کو آپ کے یہاں کھانا بلا شبہ درست اور جائز ہے، کوئی کفارہ ان پر یا آپ پر لازم نہیں . جنازہ کو ہاتھ لگانا بھی منع نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔