الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبر میں دفن کی عجیب صورت

سوال

مشہور دیگر چند مقامات پر عرصہ دراز سے یہ رواج ہے کہ میت کو قبر میں اُتار کر اس کے کفن اور جسم پر ہی مٹی ڈال دی جاتی ہے، اس کا پورا امکان ہے کہ مٹی کے نیچے دب کر چند دن میں ہی نعش بگڑ جاتی ہے، اور عوام دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ انسان مٹی سے بنا ہے، اور مٹی ہی میں مل جاتا ہے، اس لئے ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، مگر بہت سے حضرات کو میت کے ساتھ اس سلوک میں احترام میت کے خلاف ایک انسانیت سوز حرکت نظر آتی ہے، اس بارے میں شریعت حقہ کی کیا ہدایت ہے امید ہے کہ جلد سے جلد جواب با صواب سے نوازیں گے؟

جواب

یہ طریقہ خلاف شریعت بھی ہے میت کو دفن کرنے کی صورت حدیث، فقہ، سے جو ثابت ہے وہ یہ ہے، قبر بنا کر اس میں میت کو رکھا جائے اور اس طرح مٹی ڈالی جائے کہ میت پر نہ پڑے اس کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ لحد بنا کر اس میں میت کو رکھا جائے اور کچی اینٹیں لگادی جائیں تا کہ میت لحد میں محفوظ ہو جائے، پھر مٹی ڈال دی جائے، دوسری صورت یہ ہے کہ شق بنا کر اس میں میت کو رکھ کر اس پر تختہ رکھ کر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو