الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبر کا مشروع طریقہ

سوال

قبر کھودنے کا مسنون طریقہ کونسا ہے؟ ایک صورت یہ ہے کہ میت کی مقدار یا اس سے کچھ زائد حساب سے قبر تخمین کھود کر پھر اس کے درمیان میں اور ایک حفیرہ نصف قد یا زائد کھودتے ہیں، اور اس میں نعش رکھ کر حصہ اولی میں بانس رکھ کر مٹی ڈالتے ہیں، اور یہ طریقہ ہمارے دیش میں صدیوں سے چلا آ رہا ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ اولاً نصف قد یا اس سے زائد قبر کھودے اور پھر نیچے ایک حفیرہ تنگ کھودے جس میں مردہ کو رکھ دیا جائے، اور بانس ایک دم متصل ڈالے کہ میت کو نہ لگے معمولی فاصلہ پر بانس ڈالے، یہ دونوں صورتیں جو لکھی گئی ہیں، صندوقی قبروں…

جواب

دوسری صورت سنت ہے، یعنی قبر کے اوپر کا حصہ ایک قامت یا نصف قامت ہو اس کے بعد پھر ایک حفیرہ ہو جس میں میت کو بسہولت لٹا دیا جائے، اور جو تختہ یا بانس وغیرہ اس پر رکھا جائے جو میت کے حق میں چھت کے درجہ میں ہے وہ میت کے جسم سے مس نہ کرے، پھر جب مٹی ڈالی جائے گی وہ مٹی اوپر کے حصہ میں آ جائے گی، اور جو مٹی حفیرہ سے نکلتی تھی وہ زمین سے اوپر بشکل قبر رہے گی، جس سے قبر ڈیڑھ دو بالشت…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو