الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مجذوب کی قبر پر عرس

سوال

ہمارے علاقہ میں ایک مجذوب صاحب تھے، انکی ایک خاندان نے ۲۵/۳۰ سال تک خدمت کی اب انکا انتقال ہو گیا ہے، مرنے کے کچھ دن بعد خود غرض لوگوں نے مزار بنا کر آمدنی شروع کر دی ہے، اور جن لوگوں نے اخلاص کے ساتھ خدمت کی ہے ان کو محروم کر دیا ہے، اب قدیم خدام پریشان ہیں، اور جدید کمیٹی قابض بن کر عرس کرا رہی ہے، ان حالات میں خود ساختہ کمیٹی کو مزار کی تولیت حاصل ہے یا نہیں، یا قدیم مخلصین کو حاصل ہے؟

جواب

مجذوب صاحب کی خدمت جس نے بھی ثواب آخرت کی غرض سے کی ہے اور کسی دنیاوی مفاد کی خاطر نہیں کی، اب ان کی وفات کے بعد ان کی قبر کو آمدنی کا ذریعہ بنانا اپنے ثواب کو برباد کرنا ہے، اس کی مثال اس طرح سمجھئے کہ کسی نے بڑی محنت سے کھیتی کی، جب غلہ پختہ ہو گیا تو اس میں آگ لگادی، وہ سب ضائع ہوگیا، لہذا قدیم خدام وجدید کمیٹی کوئی بھی اس کا ارادہ نہ کرے البتہ مرحوم کو ثواب پہنچانے کا ہر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو