الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام کا موقف صلوٰۃ جنازہ میں

سوال

ایک مولانا صاحب بی اے منشی فاضل نے اس طور پر نماز جنازہ پڑھائی امام (میت) یعنی مولانا صاحب بی اے منشی فاضل وہاں کھڑے ہوئے جہاں امام لکھا ہے، حدیث بخاری پارہ پانچ کتاب الجنازة عمران بن میسرہ سے روایت ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت پر نماز پڑھی جو نفاس میں مرگئی تھی آپ اس کے بیچا بیچ کھڑے ہوئے۔ اس طور پر، مولانا صاحب بے اے نے بھی عورت کا جنازہ پڑھایا کیا اب شریعت بدل گئی جو مولانا صاحب نے اس طور پر جنازہ پڑھایا، کیا اب ایسے جنازہ ہونا جائز ہے۔

جواب

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ امام کو میت کے سر یا پیر کی جانب نہیں کھڑا ہونا چاہئے، بلکہ سینہ کے مقابلہ میں کھڑے ہونا چاہئے، اور جس روایت میں آتا ہے کہ میت کو سامنے رکھ کر اس کے بیچا بیچ کھڑے ہو کر نماز پڑھائی ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے، کیونکہ سر اور ہاتھ سینہ سے اوپر ہیں اور پیٹ اور پیر سینے سے نیچے ہیں، لہذا سینہ وسط میں ہوا دوسرے سینہ محل ایمان وحکمۃ و علم ہے، اسلئے بھی سینہ کو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو